سیرت طیبہ — Page 218
۲۱۸ ہونے پر حضور نے زیادہ توجہ سے دعا کرنی شروع کی اور حضور کے دل میں اس بچے کے متعلق بہت درد پیدا ہوا۔حضور دعا فرما ہی رہے تھے کہ حضور پر خدا کی یہ فیصلہ گن وحی نازل ہوئی کہ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر (الحکم ۱۷ / ۲۴ نومبر ۱۹۰۳ء) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ کی یہ قہری وحی نازل ہوئی تو میں بے حد مغموم ہوا اور اس وقت میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے کہ یا الہی اگر یہ دعا کا موقعہ نہیں تو میں اس بچے کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔“ اس پر خدا کی طرف سے یہ جلالی وحی نازل ہوئی کہ مَنْ ذَالَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ - د یعنی خدا کے حضور ا جازت کے بغیر کون شفاعت کر سکتا ہے؟“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت ہیبت طاری ہوئی کہ میں نے بلا اذن شفاعت کی ہے مگر ایک دو منٹ کے بعد ہی پھر خدا کی وحی نازل ہوئی کہ إِنَّكَ أَنْتَ الْمَجَاز د یعنی تجھے شفاعت کی اجازت دی جاتی ہے“ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفاعت کے رنگ میں دعا فرمائی اور اس