سیرت طیبہ — Page 217
۲۱۷ نشانات دیکھے اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت کے ایمان افروز نظارے مشاہدہ کئے ہیں۔چنانچہ میں اس جگہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی ایک اور دلچسپ روایت بیان کرتا ہوں جس میں نہ صرف دعا کی قبولیت کا خاص منظر نظر آتا ہے بلکہ شفاعت کے مسئلہ پر بھی بڑی روشنی پڑتی ہے۔یہ واقعہ جو میں بیان کرنے لگا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کے اخباروں میں مذکور ہو چکا ہے مگر میں اس جگہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی روایت بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔حضرت مولوی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرب صحابی تھے اور نہایت زیرک اور معاملہ فہم بزرگ تھے بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم خان سخت بیمار ہو گیا۔چودہ دن تک ایک ہی بخار لازم حال رہا۔اور اس پر حواس میں فتور اور بیہوشی بھی لاحق ہوگئی اور ٹائیفائڈ کا خطرناک حملہ ہوا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اول) علاج فرماتے تھے۔اور چونکہ وہ نہایت ماہر اور نامور طبیب تھے اور غیر معمولی ہمدردی بھی رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے علم کی پوری قوت اور وسیع طاقت سے کام لیا مگر بالآ خر ضعف اور عجز کا اعتراف کر کے سپر انداز ہو جانے کے سوا کوئی راہ نظر نہ آئی اور بچہ دن بدن اور لحظہ بلحظہ کمزور ہو کر قبر کی طرف جھکتا چلا جاتا تھا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بڑی بے تابی کے ساتھ عرض کیا گیا کہ عبدالرحیم خان کی زندگی کے آثار ا چھے نہیں اور حالت بظاہر مایوس کن ہے۔حضور پہلے سے ہی دعافرمارہے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی طرف سے اس خیال کا اظہار