سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 132 of 315

سیرت طیبہ — Page 132

۱۳۲ حسن ز بصره - بلال از جبش۔صہیب از روم ز خاک مکه اید اہل۔این چه بوانی ست یعنی یہ عجیب قدرت خداوندی ہے کہ حسن نے بصرہ سے آکر اور بلال نے حبشہ میں پیدا ہو کر اور صہیب نے روم سے اٹھ کر رسول پاک کو قبول کر لیا مگر ابو جہل مکہ کی خاک میں جنم لینے کے باوجود صداقت سے محروم رہا۔“ پس جو لوگ خدائی نور سے منور ہونا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھیں ورنہ ہزار سورج کی روشنی بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں کے متعلق کس حسرت کے ساتھ فرماتا ہے کہ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ( يس : ٣١) یعنی ہائے افسوس لوگوں پر! کہ کوئی رسول بھی ایسا نہیں آیا حتی کہ ہمارا خاتم النبین بھی کہ انہوں نے اس کا انکار کر کے اس پر ہنسی نہ اڑائی ہو۔“ (۲۳) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب علیہ اسیح الثانی نے ایک دفعہ مجھ سے بیان کیا اور بعض اوقات مجلس میں بھی بیان فرماتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا ایک برات کے ساتھ قادیان آیا۔یہ شخص علم تو جہ یعنی ہینوٹزم (Hypnotism) کا بڑا ماہر تھا۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس وقت ہم لوگ اتفاق سے قادیان آئے ہوئے ہیں چلو