سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 131 of 315

سیرت طیبہ — Page 131

۱۳۱ نہیں تھا اور مسجد خالی تھی۔مگر قدرت خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ادھر یہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور ادھر حضرت مسیح موعود کے مکان کی کھڑ کی کھلی اور حضور کسی کام کے تعلق میں اچانک مسجد میں تشریف لے آئے۔جب اس شخص کی نظر حضرت مسیح موعود پر پڑی تو وہ حضور کا نورانی چہرہ دیکھتے ہی بے تاب ہو کر حضور کے قدموں میں آگرا اور اسی وقت بیعت کرلی۔سیره المهدی حصہ اول روایت ۷۳ جلد ۱ صفحه ۵۴) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر حال میں ہر شخص اسی قسم کا اثر قبول کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہو تو کوئی شخص بھی صداقت کا منکر نہیں رہ سکتا۔بلکہ یہ خاص حالات کی باتیں ہیں جب کہ ایک طرف کسی نبی یا ولی کے چہرہ پر خاص انوار الہی کا نزول ہو رہا ہو اور اس کی قوت موثرہ پورے جوبن اور جوش کی حالت میں ہو۔اور دوسری طرف اثر قبول کرنے والے شخص کا دل صاف ہو اور اس کی وقت متاثرہ پوری طرح بیدار ہو۔یہی وجہ ہے کہ جہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی پہلی آواز پر ہی قبول کر لیا اور لبیک لبیک کہتے ہوئے آپ کے قدموں میں آگرے اور خدائی رحمت کے طالب ہوئے وہاں ابو جہل ایک ہی شہر میں پہلو بہ پہلو ر ہتے ہوئے آخر وقت تک آپ کی مخالفت پر جما رہا اور عذاب کے نشان کا طالب ہو کر یہی کہتا ہوا مرگیا کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔اس سے ظاہر ہے کہ اگر انسان کی اپنی آنکھیں بند ہوں تو اس کے لئے سورج کی روشنی بھی بے کار ہو کر رہ جاتی ہے۔حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا ہے کہ