سیرت طیبہ — Page 130
میں فرماتے ہیں صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کر دگار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۲۹) (۲۲) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بزرگ صحابی اور جماعت احمدیہ کے ایک جید عالم تھے فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مردان کا ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کی طب کا شہرہ سن کر آپ سے علاج کرانے کی غرض سے قادیان آیا۔یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت ترین دشمن تھا اور بمشکل قادیان آنے پر رضامند ہوا تھا۔اور اس نے قادیان آ کر اپنی رہائش کے لئے مکان بھی احمدی محلہ سے باہر لیا تھا۔جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے علاج سے اسے خدا کے فضل سے افاقہ ہو گیا اور وہ اپنے وطن واپس جانے کے لئے تیار ہوا تو اس کے ایک احمدی دوست نے اسے کہا کہ تم نے حضرت مسیح موعود کو تو دیکھنا پسند نہیں کیا۔مگر ہماری مسجد کو تو دیکھتے جاؤ۔وہ اس بات کے لئے رضا مند ہو گیا مگر یہ شرط رکھی کہ مجھے ایسے وقت میں مسجد مبارک دکھاؤ کہ جب مرزا صاحب مسجد میں نہ ہوں۔چنانچہ یہ صاحب اسے ایسے وقت میں قادیان کی مسجد مبارک دکھانے کے لئے لے گئے کہ جب نماز کا وقت