سیرت طیبہ — Page 6
یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر مسجد میں یا اپنے چوبارے میں نماز اور روزہ اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے اور اندر سے ہماری تائی صاحبہ جن کے ہاتھ میں سارا انتظام تھا بچا ہوار وکھا سوکھا کھانا آپ کو بھجوایا کرتی تھیں۔خدائی نصرت اور خدائی کفالت کے اس عجیب و غریب واقعہ میں ہماری جماعت کے نوجوانوں اور خصوصاً واقف زندگی نوجوانوں کے لئے بھاری سبق ہے کہ اگر وہ بھی پاک وصاف نیست اور توکل علی اللہ کے خالص جذبہ کے ساتھ خدا کے نوکر بنیں گے تو وہ رحیم و کریم آقا جو سب وفاداروں سے بڑھ کر وفادار اور سب قدر شناسوں سے زیادہ قدر شناس ہے وہ انہیں بھی کبھی ضائع نہیں کرے گا۔کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے اور وہ اس کے ہاتھ کو تھامنے سے انکار کرتے ہوئے اسے بے سہارا چھوڑ دے۔حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے کیا خوب فرمایا ہے کہ:۔تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے کس قدر اس کو سہارا کہ جس کا توہی ہے سب سے پیارا (بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین مطبوعہ ۱۹۰۱ء در ثمین صفحه ۵۲) (۳) غالباً یہ بھی اسی سکھ زمیندار کا بیان ہے جس نے حضرت مسیح موعود کو ہمارے دادا