سیرت طیبہ — Page 70
ذیل کی چند مختصر سی سطور لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔وَاللهُ الْمُوَقِّقُ وَالْمُسْتَعَانُ (1) حضرت اماں جان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کی شادی خاص الہی تحریک کے ماتحت ہوئی تھی۔اور دوسرا امتیاز یہ حاصل ہے کہ یہ شادی ۱۸۸۴ ء میں ہوئی اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوی مجددیت کا اعلان فرمایا تھا اور پھر سارے زمانہ ماموریت میں حضرت امان جان مرحومه مغفوره حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیقہ حیات رہیں۔اور حضرت مسیح موعود انہیں انتہائی درجہ محبت اور انتہائی درجہ شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی بے حد دلداری فرماتے تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ زبردست احساس تھا کہ یہ شادی خدا کے خاص منشاء کے ماتحت ہوئی ہے اور یہ کہ حضور کی زندگی کے مبارک دور کے ساتھ حضرت اماں جان کو مخصوص نسبت ہے چنانچہ بعض اوقات حضرت اماں جان بھی محبت اور ناز کے انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کرتی تھیں کہ میرے آنے کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے جس پر حضرت مسیح موعود مسکرا کر فرماتے تھے کہ ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔دوسری طرف حضرت اماں جان بھی حضرت مسیح موعود کے متعلق کامل محبت اور کامل یگانگت کے مقام پر فائز تھیں اور گھر میں یوں نظر آتا تھا گو یا دوسینوں میں ایک دل کام کر رہا ہے۔