سیرت طیبہ — Page 69
۶۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ حضرت اماں جان بلند اخلاق۔اعلیٰ روحانیت اور غیر معمولی مقام توکل ضمیمہ رسالہ کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک مختصر سا نوٹ حضرت اماں جان اے مرحومه مغفوره کے بلند اخلاق اور بلند مقام توکل پر لکھا تھا سو اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ طیبہ پر ایک رسالہ چھپ رہا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختصر سا نوٹ بھی ضمیمہ کے طور پر اس کے ساتھ شامل کر دیا جائے تا کہ جس طرح دنیا میں یہ بزرگ ہستیاں ایک دوسرے کی رفیق حیات تھیں اسی طرح اس ذکر خیر میں بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں اور میرے دل و دماغ بھی اس معنوی رفاقت سے سکون وراحت پائیں۔حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا اپریل ۱۹۵۲ء میں فوت ہوئی تھیں۔اس عرصہ میں مجھے کئی دفعہ ان کی سیرۃ کے متعلق کچھ لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر ہر دفعہ جذبات سے مغلوب ہو کر اس ارادہ کو ترک کرنا پڑا۔اب بعض احباب کی تحریک پر ا سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ حرم محترم حضرت مسیح موعود علیہ السلام