سیرت طیبہ — Page 289
۲۸۹ ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ ایذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لایق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱، ۲۲) دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں دوست غور سے سنیں کہ کس والہانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ وہ ابتلا کے وقت ہمیں اندیشہ صرف اپنی جماعت کے بعض کمزور لوگوں کا ہوتا ہے میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آئے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہیں کریں گے۔تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ پھر بھی میرے اس عشق و محبت الہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔اس لئے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں۔اور پھر آپ نے یہ قرآنی آیت پڑھی کہ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا۔( یعنی کیا خدا جیسا بھی کوئی اور ہے جسے محبت کا حق دار سمجھا جا سکے؟)۔سیرت مسیح موعود مصنفہ مولوی عبد الکریم سیالکوٹی صاحب) باقی رہی رسول کی محبت سو وہ خدا کی محبت کا حصہ اور اسی کی ظل ہے۔اور ناممکن ہے کہ ایک سچا مومن خدا کی محبت سے تو سر شار ہونگر خدا کے بھیجے ہوئے افضل الرسل کی