سیرت طیبہ — Page 259
۲۵۹ (1+) اسی قسم کی شفقت و رحمت کا ایک واقعہ قادیان کے ایک آریہ لالہ ملاوامل صاحب کے ساتھ بھی پیش آیا۔لالہ صاحب نو جوانی کے زمانہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے مگر اپنے مذہبی اور قومی تعصب میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت مسیح موعود نے انہیں کئی دفعہ اُن خداداد نشانوں کی گواہی کے لئے بلایا جو ان کی آنکھوں کے سامنے گزرے تھے اور وہ ان کے چشم دید اور گوش شنید گواہ تھے مگر وہ ہمیشہ مذہبی تعصب کی وجہ سے شہادت دینے سے گریز کرتے رہے۔ایک دفعہ یہی ملا وامل صاحب دق کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور حالت بالکل مایوسی اور نا امیدی کی ہو گئی۔اس پر وہ ایک دن بے چین ہو کر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالتِ زار بتا کر بہت روئے اور باوجود مخالف ہونے کے اُس اثر کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود کی نیکی کے متعلق ان کے دل میں تھا حضور سے عاجزی کے ساتھ دعا کی درخواست کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی یہ حالت دیکھ کر رحم آگیا اور آپ کا دل بھر آیا اور آپ نے ان کے لئے خاص توجہ سے دعا فرمائی جس پر آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا د یعنی اے بیماری کی آگ تو اس نوجوان پر ٹھنڈی ہوجا اور اس کے