سیرت طیبہ — Page 256
۲۵۶ فطرت کی طرف سے یکساں ودیعت کی گئی تھی۔(۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وسیع عفو و رحمت کا ایک اور دلچسپ واقعہ بھی مجھے اس جگہ یاد آ گیا۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جو حضرت مسیح موعود کے مشہور وقائع نگار تھے اپنی تصنیف ”حیات احمد میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود لا ہور میں قیام فرما تھے اور ایک مقامی مسجد میں فریضہ نماز ادا کر کے اپنی فرودگاہ کی طرف واپس تشریف لے جارہے تھے ایک قوی ہیکل شخص نے جوان ایام میں مہدی ہونے کا مدعی تھا اور محمد رسول اللہ کی بجائے مہدی رسول اللہ کا کلمہ پڑھتا تھا پیچھے کی طرف سے آکر حضرت مسیح موعود پر اچانک حملہ کر دیا اور حضور کو زور کے ساتھ اٹھا کر زمین پر دے مارنے کی کوشش کی۔یہ بد بخت حضور کو گرا تو نہ سکا مگر ( میں نے دوسرے طریق سے سنا ہوا ہے کہ ) اس کے اچانک حملہ سے حضور کچھ ڈگمگا گئے اور حضور کا عمامہ مبارک گرتے گرتے بچا۔اس پر سیالکوٹ کے ایک مخلص دوست سید امیر علی شاہ صاحب نے فورا لپک کر اس شخص کو پکڑ لیا اور اسے دھکا دے کر الگ کرتے ہوئے ارادہ کیا کہ اسے اس گستاخی اور قانون شکنی اور مجرمانہ حملہ کی سزا دیں جب حضرت مسیح موعود نے دیکھا کہ سید امیر علی شاہ صاحب اُسے مارنے لگے ہیں تو حضور نے بڑی نرمی کے ساتھ مسکراتے ہوئے فرمایا