سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 247 of 315

سیرت طیبہ — Page 247

۲۴۷ الہام کے نزول کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا لیکن اس وقت سے تو گویا خدائی رحمت کی تیز بارش مسلسل برسنی شروع ہوگئی اور والد کا سایہ اٹھتے ہی خدائی نصرت نے آپ کا ہاتھ مضبوطی کے ساتھ تھام لیا۔اس کے بعد مارچ ۱۸۸۲ء میں حضرت مسیح موعود کو ماموریت کا پہلا الہام ہوا ( براہین احمدیہ حصہ سوم ص ۲۳۸) جو اس عظیم الشان روحانی جہاد کا آغاز تھا جو آدم سے لے کر آج تک ہر مرسل یزدانی کے زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے لیکن اب تک بھی حضور نے بیعت کا سلسلہ شروع نہیں کیا تھا اور نہ ہی جماعت احمدیہ کی بنیاد قائم کی گئی تھی۔جماعت کی بنیاد بالآخر خدائی حکم کے ماتحت ۱۸۸۹ء کے ابتداء میں آکر قائم ہوئی اور گویا خدائی خدمت گاروں کی باقاعدہ فوج بھرتی ہونی شروع ہوگئی۔اس کے جلد بعد ہی حضور نے خدا سے الہام پا کر مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا جس پر چاروں طرف سے مخالفت کا ایسا طوفان اٹھا کہ الْحَفِيظ وَ الْأَمَانِ۔اور یہ مخالفت آپ کی تاریخ وفات تک جو ۱۹۰۸ء میں ہوئی برابر تیزی کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور ہر قوم آپ کی مخالفت میں حصہ لینے کو فخر سمجھنے لگی اور جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے خدا کی یہ از لی سنت پوری ہوئی کہ کوئی خدائی مصلح ایسا نہیں آتا جس کا انکار نہ کیا جاتا ہو اور اسے بنی ، مذاق اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔(سورہ انیس آیت ۳۱) ماموریت کے الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کچھ اوپر چھبیس سال زندہ رہے اور بیعت کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد آپ نے اس دنیا میں قریباً ہمیں سال گزارے جو قمری حساب سے قریباً اکیس سال کا زمانہ بنتا ہے اور یہ طویل زمانہ