سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 220 of 315

سیرت طیبہ — Page 220

۲۲ نہیں کرنا چاہتا۔لیکن چونکہ انسان بعض اوقات دعا میں غلطی بھی کر سکتا ہے اور خدا سے ایسی چیز مانگ سکتا ہے جو اس کی کسی مصلحت کے خلاف ہے اس لئے خدا نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت یہ شرط مقرر کر رکھی ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہ کی جائے۔اسی روایت کو دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شفاعت سے روک کر اپنا قانون بھی پورا کر لیا اور پھر فوراً ہی اجازت دے کر اپنے محبوب مسیح کی عزت بھی قائم کر دی۔یہ ایک بہت بڑا امتیاز ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کونو از اگیا۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اس روایت کے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اے احمد یو! تمہیں مبارک ہو کہ یہ دولت خدا تعالیٰ نے تمہارے حصے میں رکھی تھی۔پس خدا کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو۔“ الحکم ۲۴ / ۱۷ نومبر، بدر ۴۱/۴۲۔اکتوبر ۱۹۰۳ء) اس روایت سے تقدیر کے مسئلہ پر بھی بڑی لطیف روشنی پڑتی ہے اور اس قرآنی آیت کی تفسیر گویا مجسم ہو کر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے کہ اللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِه د یعنی خدا اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے اور خاص حالات میں اپنے فیصلہ کو بدل سکتا ہے۔“ چنانچہ باوجود اس کے کہ میاں عبدالرحیم خاں کے متعلق خدا نے وقتی حالات کے ماتحت خود فرمایا تھا کہ ” تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفاعت پر اپنی اس تقدیر کو بدل دیا اور بچے کو گویا موت کے منہ سے نکال لیا۔دوستو ! سوچو اور غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا مذہب