سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 216 of 315

سیرت طیبہ — Page 216

۲۱۶ چاہتا ہوں کہ میں نے گزشتہ چند روایتیں ہائی بلڈ پریشر کی حالت میں لکھی ہیں جس کے علاوہ میرے سینہ میں اور بائیں بازو میں کافی درد بھی لاحق رہا ہے اس لئے میں ان روایتوں کے بیان کرنے میں پوری توجہ سے کام نہیں لے سکا اور سکون اور یکسوئی کی حالت میسر نہیں آئی۔اور چونکہ یہ عوارض کم و بیش اب تک چل رہے ہیں اس لئے اب میں اپنا بقیہ مضمون بڑے اختصار کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔دراصل میری غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر خیر کے ذریعہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے دلوں میں پاک تبدیلی پیدا کرنا اور دوسری طرف غیر از جماعت اصحاب کو یہ بتانا ہے کہ خدا کے فضل سے سلسلہ احمدیہ کا مقدس بانی نہ صرف اعلیٰ ترین اخلاق کا حامل تھا بلکہ روحانی لحاظ سے بھی ایسے بلند مقام پر فائز تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد اس کی نظیر نہیں ملتی۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اس غرض کے لئے وہ چند روایتیں کافی ہیں جو میں نے اس جگہ بیان کی ہیں اس لئے میں اب صرف دو تین اور باتیں بیان کر کے اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔”اگر در خانہ کس اس حرفے بس است (۱۸) جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت اور حضور کی روحانی توجہ کے نشانات بے شمار ہیں اور حضور کے زمانہ میں قریباً ہر احمدی نے ایسے غیر معمولی نصرتوں کے