سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 212 of 315

سیرت طیبہ — Page 212

۲۱۲ نظارے دیکھے خدا کے فضل سے کسی آزمائش اور کسی امتحان کے وقت لغزش نہیں کھا سکتے کیونکہ وہ بات جو دوسروں کے لئے محض شنید ہے وہ ان لوگوں کے لئے دید ہے۔حضرت مسیح موعود سے منشی ظفر احمد صاحب کی ملاقات غالباً ۱۸۸۳ء میں ہوئی اور فوت وہ اگست ۱۹۴۱ ء میں ہوئے۔یہ قریباً ۶۰ سال کا زمانہ بنتا ہے۔اس طویل عرصہ میں مرحوم کا ہر قدم ایمان اور اخلاص اور محبت اور قربانی میں مسلسل بلندی کی طرف اٹھتا چلا گیا اور کبھی کوئی لغزش نہیں آئی۔حالانکہ اس زمانہ میں خدائی سنت کے مطابق احمد یہ جماعت پر مصائب کے زلزلے بھی آئے ، حوادث کی آندھیاں بھی چلیں ، ابتلاؤں کے طوفانوں نے بھی اپنا زور دکھایا مگر یہ خدا کا بندہ آگے ہی آگے قدم اٹھاتا چلا گیا اور بالآخر سب کچھ دیکھ کر اور سارے عجائبات قدرت کا نظارہ کر کے اپنے محبوب آقا کے قدموں میں پہنچ گیا۔اور یہ بات صرف حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے ساتھ ہی خاص نہیں تھی بلکہ جس نے بھی حضرت مسیح موعود کی صحیح صحبت اٹھائی اور خدائی نشانات دیکھے اور ایمان کی حلاوت کا حقیقی مزہ چکھا (اور ایسے لوگ ہزاروں ہیں ) وہ حق و صداقت کی ایک آہنی دیوار بن گیا جسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے ہلانے اور گرانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔کاش جماعت کی آئندہ نسلیں بھی حضرت مسیح موعود کے صحابہ والا ورثہ پائیں اور خدا کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی رضا کے رستہ پر گامزن ہوں تاکہ صلحاء کے ایک لمبے سلسلہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کا روحانی ورثہ قیامت تک چلتا چلا جائے۔اے کاش کہ ایسا ہی ہو۔