سیرت طیبہ — Page 213
۲۱۳ (۱۷) انہی منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی ایک اور بڑی دلچسپ روایت ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں مقیم تھے تو میں اور خان محمد خاں صاحب مرحوم کپورتھلہ کے ایک غیر احمدی رئیس اور عالم دین ڈاکٹر صادق علی صاحب کوساتھ لے کر لدھیانہ گئے۔کچھ وقت کے بعد حضرت مسیح موعود حسب طریق بالوں میں مہندی لگوانے لگے تو اس وقت ایک تعلیم یافتہ آریہ بھی حضور کی ملاقات کے لئے آ گیا۔وہ ایم۔اے پاس تھا اور بہت تیز اور طرار تھا۔حضور ابھی مہندی لگوا ہی رہے تھے کہ اس آریہ نے اسلام کی تعلیم پر کوئی اعتراض کیا۔حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر صادق علی صاحب سے فرمایا کہ آپ ان صاحب سے ذرا گفتگو کریں تو میں اس عرصہ میں مہندی لگوالوں۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اس آریہ کے اعتراض کا جواب دیا مگر اس نے ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے جواب میں ایسی سجا سجا کر تقریر کی کہ ڈاکٹر صاحب عالم دین ہونے کے باوجود اس کے سامنے خاموش ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ دیکھا تو غیرت میں آکر فوراً مہندی لگوانی بند کر دی اور اس آریہ سے مخاطب ہو کر اس کے اعتراض کا جواب دینا شروع کر دیا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضور کی تقریر دلائل کے لحاظ سے قریباً قریباً وہی تھی جو ڈاکٹر صادق علی صاحب نے کی تھی مگر حضور کا انداز ایسا مؤثر اور اتنا دلنشین تھا اور حضور کی