سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 16 of 315

سیرت طیبہ — Page 16

دیکھ ! میری روح نہایت توکل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے۔سو میں تیری قدرت کے نشان کا خواہش مند ہوں لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی ذات کے لئے بلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں۔“ (ضمیمه تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۱) (11) پھر اسی محبت الہی کے جوش میں اپنے اور اپنے مخالفوں کے درمیان حق و انصاف کا فیصلہ چاہتے ہوئے اپنی جان اور اپنے مال و متاع اور اپنی عزت و آبرو اور اپنے جمیع کاروبار کی بازی لگاتے ہوئے خدا کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اور کس جذ بہ اور ولولہ سے فرماتے ہیں۔اے قدیر و خالق ارض و سما اے رحیم و مہربان و رہنما اے کہ میداری تو بر دلہا نظر اے کہ از تو نیست چیزے مستتر گر تو می بینی مرا پرفسق وشر گر تو دید استی که هستم بد گہر پاره پاره کن من بدکار را شاد کن ، ایس زمرہ اغیار را آتش افشاں ، بر در و دیوار من دشمنم باش و تنبه کن کارمن در مرا از بندگانت یافتی قبله من آستانت یا فتی در دل من آن محبت دیده کز جہاں آں راز را پوشیده