سیرت طیبہ — Page 181
۱۸۱ دو یعنی مسیحیوں کی طرف دیکھو اور ان کے جھوٹے عقائد کوبھی دیکھو اور پھر ان ناپاکیوں کی طرف بھی دیکھو جو ان کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔وہ اپنے ظلموں اور زیادتیوں کے ساتھ ہر بلندی سے کمزور قوموں کی طرف دوڑتے چلے آتے ہیں اور اپنے عقائد کے بتوں کے ذریعہ خدا کی زمین کو نا پاک کر رہے ہیں۔بلکہ ان کے لشکروں نے مسلمانوں کی زمینوں میں بھی ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور ان کے دجالی فتنے مسلمان عورتوں تک میں سرایت کر رہے ہیں۔اے احمد کے آقا! اے محمد کے معبود و مسجود خدا تو اپنے بندوں کو ان کے خطرناک زہروں سے محفوظ رکھ۔اے میرے رب تو ان کی طاقت کو اس طرح توڑ دے جس طرح کہ تو سرکش لوگوں کو توڑا کرتا ہے اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے میدان میں اتر آ۔اے میرے رب تو ان کے جتھے کو بکھیر کر ان کی جمعیت کو منتشر کر دے اور ان کو تباہی کی طرف گھسیٹ گھسیٹ کر اس طرح پگھلا کر رکھ دے جس طرح کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے۔“ کیا مسیحیوں کے عقائد اور عیسائی پادریوں کے طور و طریق کے متعلق ایسے غیرت مندانہ خیالات ظاہر کرنے والا شخص انگریزوں کی عیسائی حکومت کا خوشامدی سمجھا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں۔باقی رہا انگریز کے زمانہ میں انگریزی حکومت کی وفاداری کا سوال۔سو یہ ایک اصولی سوال ہے جسے خوشامد کے سوال کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں اور نہ اس سوال کو انگریزوں کے ساتھ کوئی خصوصی تعلق ہے۔ایک پاکباز مسلمان بلکہ ایک نائب رسول