سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 315

سیرت طیبہ — Page 165

۱۶۵ (۳) اس مقصد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو بنیادی باتوں پر انتہائی زور دیا۔ایک خدا تعالیٰ کی کامل توحید پر ایمان لانا اور دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لا کر آپ کے ساتھ کامل محبت اور آپ کی اطاعت کا سچا عہد کرنا۔اور یہی وہ دو باتیں ہیں جن کی کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میں تعلیم دی گئی ہے۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانے کے بغیر انسان حقیقی توحید کا سبق کبھی نہیں سیکھ سکتا۔نیچر کا مطالعہ اور عقلی دلیلیں انسان کو صرف اس حد تک لے جاتی ہیں کہ کوئی ”خدا ہونا چاہیئے لیکن اس کے آگے یہ مقام کہ ” خدا واقعی موجود ہے رسولوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہونا چاہیے اور ہے میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ جہاں ہونا چاہیے کا مقام محض شک یا زیادہ سے زیادہ گمان غالب کا مقام ہے وہاں” ہے“ کا مقام مستحکم یقین کا مقام ہے اور ان دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔پھر رسولوں میں سے اپنے آقا اور مطاع اور محبوب حضرت خاتم النبيين محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت مسیح موعود کا دل خاص طور پر اس پختہ یقین۔معمور تھا کہ چونکہ پہلے تمام نبی اور رسول صرف خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لئے آئے تھے اور اس کے مقابل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے اس لئے کامل توحید الہی کا سبق دنیا کو