سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 143 of 315

سیرت طیبہ — Page 143

۱۴۳ سے سنیں کس شان سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ تو گذر چکا اب ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھ لے۔خدا کے فضل سے 66 ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہوگی۔“ (سیرۃ المہدی روایت ۷ ۱۴) چنانچہ اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ایک نظم میں بھی فرماتے ہیں ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے تتمہ حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۹۵) لیکن اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی صراحت فرمائی کہ ہمارا یہ کام نہیں کہ مداریوں کی طرح خود آگ جلا کر اس میں داخل ہونے کا تماشہ دکھاتے پھریں اور خدا کا امتحاں کریں۔خدا کا امتحان کرنا اس کے ماموروں کی شان سے بعید ہے اور سنتِ انبیاء کے سراسر خلاف۔ہاں اگر دشمن خود از راہ عداوت ہمیں آگ میں ڈالے تو ہم پر ضرور آگ ٹھنڈی ہوگی اور خدا ہمیں اس کے ضرر سے بچائے گا۔(سیرۃ المہدی جلدا صفحه ۱۲۹ صفحه ۱۳۸) کاش! ہماری جماعت کے لوگ ایمان میں اتنی ترقی کریں اور خدا کے ساتھ اپنا ذاتی تعلق اس حد تک بڑھا ئیں کہ ان کے لئے بھی خدائی غیرت جوش میں آتی رہے اور وہ نہ صرف دشمنوں کی شرارت سے محفوظ رہیں بلکہ نصرت الہی کے پھریرے اڑاتے ہوئے ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھتے جائیں اور دنیا کے لئے روشنی اور ہدایت کا موجب بنیں۔