سیرت طیبہ — Page 140
جنونِ عشق ! میرے دل کی تمنا یہ ہے کہ تیرے ہی اردگر دطواف کرتارہوں کہ تو نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔وہ مسیح جسے لوگ اپنی غلطی سے آسمان پر بیٹھا ہوا بتاتے تھے تُو نے اے محبت ! اپنی کرشمہ سازی سے اُسے اس زمین میں سے ہی ظاہر کر دیا ہے۔“ دوسری جگہ اپنی ایک اردو کی نظم میں سلوک الی اللہ کے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے محبت کی تاثیرات کے متعلق فرماتے ہیں کوئی ره نزدیک تر راہ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار اُس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا زر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو! نہ ہونا سست اس میں زینہار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار فقر کی منزل کا ہے اول قدم نفي وجود پس کرو اس نفس کو زیر و زبر از بهر یار تلخ ہوتا ہے ثمر جب تک کہ ہو وہ نا تمام اس طرح ایماں بھی ہے جب تک نہ ہو کامل پیار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۹ تا۱ ۱۴)