سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 102 of 315

سیرت طیبہ — Page 102

۱۰۲ کی عادت کے موافق چیز مہیا فرماتے تھے۔بعض اوقات اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی مہمان کو اچار کا شوق ہے اور اچار دستر خوان پر نہیں ہوتا تھا تو خود کھانا کھاتے کھاتے اٹھ کر اندرون خانہ تشریف لے جاتے اور اندر سے اچار لا کر ایسے مہمان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔اور چونکہ آپ بہت تھوڑا کھانے کی وجہ سے جلد شکم سیر ہو جاتے تھے اس لئے سیر ہونے کے بعد بھی آپ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرے اٹھا کر منہ میں ڈالتے رہتے تھے تاکہ کوئی مہمان اس خیال سے کہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا ہے دستر خوان سے بھوکا ہی نہ اٹھ جائے۔اللہ اللہ ! کیا زمانہ تھا۔اسی طرح جب کوئی خاص دوست آپ کی ملاقات کے بعد واپس جانے لگتا تھا تو بعض اوقات آپ ایک میل یا دو دو میل تک اسے رخصت کرنے کے لئے اس کے ساتھ جاتے تھے اور بڑی محبت اور اکرام اور دعا کے ساتھ رخصت فرماتے تھے۔اور مہمانوں کے واپس جانے پر آپ کے دل کو اس طرح رنج پہنچتا تھا کہ گویا اپنا ایک قریبی عزیز رخصت ہو رہا ہے۔چنانچہ مہمانوں کے ذکر میں فرماتے ہیں:۔مہماں جو کر کے اُلفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جُدا ہے