سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 92 of 315

سیرت طیبہ — Page 92

۹۲ گئے اور انہوں نے سچائی کی خاطر دنیا کا ذرہ بھر خوف نہیں کیا بلکہ ہر امتحان اور آزمائش کے وقت خدائے رحمن کے تعلق کو ترجیح دی۔انہوں نے تلواروں کی جھنکار میں شہادت کے جام تلاش کئے اور ہر مجلس میں صداقت کی گواہی کے لئے بے خوف و خطر تیار رہے۔وہ نیک اور متقی اور صرف خدا سے ڈرنے والے لوگ تھے اور خدا کی یاد میں گریہ وزاری سے راتیں گزارتے تھے۔وہ ایسی برگزیده جماعت تھی کہ ایمان و اخلاص کے لحاظ سے ہم ان میں کوئی فرق نہیں کر سکتے۔وہ اپنے آقا کے ساتھ دائیں اور بائیں جسم کے اعضاء کی طرح لیٹے رہے اور نصرت اور اعانت اور قربانی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔“ اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق کس محبت کے ساتھ اور کن زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں :۔د حسین رضی اللہ عنہ ظاہر و مظہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے سب سلب ایمان ہے اور اس امام کی محبت الہی اور تقویٰ اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔۔۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔‘“ اشتہار تبلیغ الحق ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۵ء)