سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 315

سیرت طیبہ — Page 79

۷۹ 66 خدا کے منہ کی بات اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔“ دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کس شان کا ایمان اور کس بلند اخلاقی کا مظاہرہ اور کس تقویٰ کا مقام ہے کہ اپنی ذاتی راحت اور ذاتی خوشی کو کلیتہ قربان کر کے محض خدا کی رضا کو تلاش کیا جا رہا ہے اور شاید منجملہ دوسری باتوں کے یہ ان کی اسی بے نظیر قربانی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مشروط پیشگوئی کو اس کی ظاہری صورت سے بدل کر دوسرے رنگ میں پورا فرما دیا۔(11) پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے) اور آپ کے آخری سانس تھے تو حضرت اماں جان نور الله مَرْقَدَهَا وَرَفَعَهَا فِي أَعْلَى عِلْييْن آپ کی چارپائی کے قریب فرش پر آکر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہوکر عرض کیا کہ ”خدایا ! یہ تو اب ہمیں چھوڑ رہے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑ یو “ یہ ایک خاص انداز کا کلام تھا جس سے مراد یہ تھی کہ تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔اور دل اس یقین سے پر تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔اللہ اللہ ! خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی وہ جو گویا ظاہری لحاظ سے ان کی ساری قسمت کا بانی اور ان کی تمام راحت کا مرکز تھا توکل اور ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بے مثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔