سیرت طیبہ — Page 80
۸۰ مجھے اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ بے حد پیارا اور مضبوطی کے لحاظ سے گویا فولادی نوعیت کا قول یاد آ رہا ہے جو آپ نے کامل توحید کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کی وفات پر فرمایا کہ الا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَى لَا يَمُوتُ (بخاری کتاب اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم باب قول النبی صلی الله عليه وسلم لو كنت متخذا خلیلا۔۔۔۔) د یعنی اے مسلمانو ! سنو کہ جو شخص رسول اللہ کی پرستش کرتا تھا وہ جان لے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں مگر جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ یقین رکھے کہ خدا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔“ بس اس سے زیادہ میں اس وقت کچھ نہیں کہنا چاہتا۔وَ آخِرُ دَعْوَنَا آنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - وَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودِ وبَارِك وَسَلَّمْ خاکسار را قم آشم مرزا بشیر احمد ربوه