سیرت طیبہ — Page 305
مضمون بتادیں۔ان کا خیال ہوگا کہ غالباً حضرت مسیح موعود اس عجیب و غریب چیلنج کو ٹال دیں گے اور انہیں حضور کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کا موقعہ مل جائے گا مگر حضرت مسیح موعود نے اس چیلنج کے ملتے ہی غیرت کے ساتھ فرمایا کہ میں اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں اور اس مقابلے کے لئے تیار ہوں کہ دعا اور روحانی توجہ کے ذریعہ آپ کے بند خط کا مضمون بتادوں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے بعد آپ لوگوں کو مسلمان ہونا ہوگا“ (اصحاب احمد جلد چہارم ص ۱۰۴) حضرت مسیح موعود کے اس تحدی والے جواب کا عیسائیوں پر ایسا رعب پڑا کہ وہ ڈر کر بالکل خاموش ہو گئے اور خود اپنی طرف سے چیلنج دینے کے بعد حضرت مسیح موعود کے سامنے آنے کی جرات نہ پائی اور مسیحیت کو شکست ہوئی اور اسلام کا بول بالا ہوا۔یہ درست ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے خدا کے رسولوں کو از خود غیب کا علم حاصل نہیں ہوتا (سورہ انعام آیت (۱۰۹) مگر یہ بھی درست ہے اور خدا کی ازلی سنت میں داخل ہے کہ وہ اکثر اپنی مشیت اور اپنے مصالح کے ماتحت نبیوں پر غیب کی خبریں ظاہر فرما تارہتا ہے تا کہ خدائی دین کو خدائی نشانوں کے ذریعہ تقویت حاصل ہو۔یا درکھنا چاہیئے کہ عیسائیوں کے اس چیلنج کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے جو یہ فرمایا تھا کہ اگر میں بند خط کا مضمون بتا دوں تو پھر آپ لوگوں کو مسلمان ہونا ہو گا تو یہ کوئی رسمی جواب اور کوئی معمولی شرط نہیں تھی بلکہ حضرت مسیح موعود کی صداقت اور اسلام کی سچائی کی ایک زبر دست دلیل تھی۔خدا کے مامور کوئی فضول اور عبث کام نہیں