سیرت طیبہ — Page 306
کیا کرتے اور نہ وہ نعوذ باللہ دنیا کے مداریوں کی طرح لوگوں کو تماشہ دکھاتے پھرتے ہیں بلکہ ان کی غرض و غایت صرف حق کی تائید کرنا اور صداقت کی طرف لوگوں کو دعوت دینا ہوتی ہے۔اور وہ صرف وہی کام کرتے اور صرف اسی جگہ ہاتھ ڈالتے ہیں جہاں انہیں اپنے خدا داد مشن کی تائید اور صداقت کی تصدیق کا کوئی سنجیدہ پہلو نظر آئے۔کاش بٹالہ کے عیسائی اس موقعہ پر مردانہ جرات سے کام لے کر آگے آتے اور خدا اسلام کی تائید میں کوئی چمکتا ہوا نشان ظاہر کرتا جس سے دنیا کی روحانیت کو فائدہ پہنچتا اور حق کا بول بالا ہوتا۔حضرت مسیح موعود اپنی ایک نظم میں عیسائیوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں آؤ عیسائیو ادھر آؤ نور حق دیکھو! راہ حق پاؤ ! جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ! سر پہ خالق ہے اس کو یاد کرو یونہی مخلوق کو نہ بہکاؤ! ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر کہ بناتا ہے عاشق دلبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یونہی اک واہیات کہتے ہیں بات جب ہو کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اُس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یونہی امتحاں سہی (براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۹۹،۲۹۸)