سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 304 of 315

سیرت طیبہ — Page 304

۳۰۴ دوسری طرف چونکہ مسیحیت کے عقائد بگڑ چکے تھے اور توحید کی جگہ تثلیث نے لے لی تھی جو شرک کا ہی دوسرا نام ہے اس لئے حضرت مسیح موعود نے اپنے فرضِ منصبی کے لحاظ سے مسیحیت کے باطل خیالات کا مقابلہ کرنے اور صلیب کے زور کو توڑنے میں انتہائی توجہ دی اور تقریر اور تحریر کے ذریعہ ان کے غلط عقائد کا پورا پورا کھنڈن کیا حتی کہ مخالفوں تک نے آپ کو عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ پر فتح نصیب جرنیل“ کے لقب سے یاد کیا اور اس کے مقابل پر مسیحیوں نے بھی ہر رنگ میں حضرت مسیح موعود کا مقابلہ کرنے اور حضور کو نیچا دکھانے کی سر توڑ کوشش کی اور ہر طرح کی امکانی چالوں سے کام لیتے ہوئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر مقابلہ میں کامیاب اور سر بلند کیا اور آپ خدا کے فضل سے اس دار فانی سے کامیابی اور فتح و ظفر کا پرچم لہراتے ہوئے رخصت ہوئے اور اب آپ کے بعد آپ کی جماعت اپنے نہایت محدود و وسائل کے باوجود آزاد دنیا کے قریباً ہر ملک میں اسلام کا جھنڈا بلند کرنے میں دن رات لگی ہوئی ہے اور مسیحیت پسپا ہورہی ہے اور اسلام ترقی کر رہا ہے۔اس تعلق میں ایک عجیب واقعہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ بٹالہ کے مسیحیوں نے جو قادیان کے تقرب کی وجہ سے زیادہ تعصب رکھتے تھے اور حسد سے جلے جاتے تھے حضرت مسیح موعود کے دلائل اور زور دار علم کلام کے سامنے عاجز آکر حضور کی خدمت میں یہ چیلنج بھیجا کہ اگر آپ واقعی خدا کی طرف سے ہیں تو ہم ایک خط کے اندر کچھ عبارت لکھ کر اور اُسے سر بمہر لفافے میں بند کر کے آپ کے سامنے میز پر رکھ دیتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو اپنی روحانی طاقت کے ذریعہ اس لفافہ کے اندر کا