سیرت طیبہ — Page 303
طرح دنیا میں ایک بھاری شرک کی بنیا درکھ دی۔حالانکہ مسیح کی ساری زندگی اور زندگی کا ہرلمحہ اس بات پر شاہد ناطق ہے کہ وہ خدا یا خدا کا بیٹا ہر گز نہیں تھا بلکہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوا اور کمزوری کی حالت میں ہی دنیا میں زندگی گزاری اور عاجزی اور فروتنی کے طریق پر اپنے خدا داد مشن کی تبلیغ کی اور ہمیشہ خدائے واحد کی پرستش میں اپنا وقت گزارا۔اور پھر بد بخت یہودیوں نے اس مقدس انسان کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ کھڑا کر کے اسے صلیب کی سزا دلوادی مگر خدا نے اپنی معجزانہ تقدیر سے اسے اس لعنت کی موت سے بچا لیا۔مسیح کا کوئی ایک قول یا اس کی زندگی کا کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو اسے دوسرے نبیوں سے ممتاز کرتا ہو بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع اور اسرائیلی سلسلہ کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ اور ایک غیر تشریعی نبی کے طور پر پیش کرتا رہا۔اور چونکہ حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ بھی ایک مرسل یزدانی تھے اس لئے نہ صرف آسمانی برادری میں شامل ہونے کی حیثیت میں بلکہ مثیل مسیح ہونے کی حیثیت میں بھی آپ مسیح ناصری سے محبت کرتے اور اسے عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔مگر چونکہ آپ افضل الرسل خاتم النبیین سید ولد آدم کے قدموں میں ظاہر ہونے والے خاتم الخلفاء تھے اس لئے لازماً آپ کا درجہ خدا کے فضل سے مسیح ناصری سے بلند تھا۔چنانچہ آپ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اُس سے بہتر غلام احمد ہے دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۰)