سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 302 of 315

سیرت طیبہ — Page 302

پائے گا۔حال کے علوم جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں۔اور کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آویں مگر انجام کا ران کے لئے ہزیمت ہے۔میں شکر نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ اسلام کی اعلیٰ طاقتوں کا مجھ کو علم دیا گیا ہے جس علم کی رو سے میں کہ سکتا ہوں کہ اسلام نہ صرف فلسفہ جدیدہ کے حملہ سے اپنے تئیں بچائے گا بلکہ ( زمانہ ) حال کے علوم مخالفہ کو جہالتیں ثابت کر دے گا اسلام کی سلطنت کو ان چڑھائیوں سے کچھ بھی اندیشہ نہیں ہے جو فلسفہ اور (علوم) طبعی کی طرف سے ہورہے ہیں اس کے اقبال کے دن نزدیک ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر اس کی فتح کے نشان نمودار ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ ص ۲۵۵،۲۵۴) (۲۳) میں اپنی تقریر کے شروع میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی دو بڑی غرضیں تھیں۔ایک غرض اسلام کے احیاء تجدید اور غلبہ سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری غرض کا تعلق کسر صلیب سے تھا۔یعنی مسیحیت کے زور کو توڑ کر اور دنیا میں مسیح پرستی کو مٹا کر سچی توحید کو قائم کرنا۔بے شک حضرت مسیح ناصری خدا کے ایک برگزیدہ نبی تھے جن کی ہم دل و جان سے عزت کرتے ہیں مگر ان کے بعد ان کی قوم نے یہ خطرناک ظلم ڈھایا کہ حق وصداقت کے رستہ کو چھوڑ کر انہیں خدا کا بیٹا بنالیا اور اس