سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 296 of 315

سیرت طیبہ — Page 296

۲۹۶ اضافہ ہو گیا تھا مسیح محمدی کے اس پروانے نے حضرت مسیح موعود کولکھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ میری یہ ترقی صرف حضور کی دعا اور توجہ کے نتیجہ میں ہوئی ہے کیونکہ ادھر حضور کا مکتوب گرامی پہنچا اور اُدھر میری اس ترقی کا آرڈر آ گیا اس لئے میں یہ ساری ترقی کی رقم حضور کی خدمت میں بھجواتا ہوں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہمیشہ بھجواتا رہوں گا۔چنانچہ جب تک وہ زندہ رہے اپنی اس غیر معمولی ترقی کی ساری رقم حضور کی خدمت میں اسلام کی تبلیغ کے لئے بھجواتے رہے اور اس کے علاوہ اپنا سابقہ چندہ پچیس روپے ماہوار بھی بدستور جاری رکھا اور خود نہایت قلیل رقم پر گزارہ کرتے رہے اور قربانی کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا جس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔( بدر ۱۴ جنوری ۱۹۰۹ ء والفضل یکم مئی ۱۹۶۲ء) پھر ایک گاؤں کے رہنے والے بابا کریم بخش صاحب ہوتے تھے۔وہ زیادہ تعلیم یافتہ تو نہیں تھے مگر بے شمار دوسرے احمدیوں کی طرح حضرت مسیح موعود کی محبت اور اطاعت میں گداز تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود قادیان کی مسجد میں کچھ وعظ فرمارہے تھے اور پیچھے آنے والے لوگ پچھلی صفوں میں کھڑے ہوکر سن رہے تھے اور ان سے بعد میں آنیوالوں کے لئے رستہ رکا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود نے انتظام کی سہولت کی غرض سے ان لوگوں کو آواز دے کر فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اس وقت بابا کریم بخش صاحب مسجد کی گلی میں سے ہو کر مسجد کی طرف آرہے تھے اُن کے کانوں میں اپنے امام کی یہ آواز پہنچی تو وہیں رستہ میں ہی زمین پر بیٹھ گئے اور پھر آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے مسجد میں پہنچے تا کہ امام کے حکم کی نافرمانی نہ ہو۔وہ بیان کیا کرتے تھے کہ میں