سیرت طیبہ — Page 293
۲۹۳ الدین صاحب کو کسی کام کے تعلق میں قادیان کے پتے پر ایک تار دلوائی اور تار لکھنے والے نے یہ الفاظ لکھ دیئے کہ بلا توقف دتی پہنچ جائیں۔اس وقت حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے روز مرہ کے کام میں مصروف تھے اس تار کے ملنے پر آپ فورا وہیں سے اُٹھ کر بغیر اس کے کہ گھر جائیں یا سفر کے لئے گھر سے کوئی خرچ منگوائیں یا بستر ہی تیار کرائیں یا اور ضروری سامانِ سفر ساتھ لیں قادیان کے اڈے کی طرف روانہ ہو گئے۔اور جب کسی نے اس کیفیت کو دیکھ کر کہا حضرت آپ اس طرح بغیر کسی سامان کے لمبے سفر پر جارہے ہیں ! تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ امام نے بلایا ہے کہ ” بلا توقف آجاؤ اسلئے اب میرا ایک منٹ کے لئے بھی رکھنا جائز نہیں اور میں جس طرح بھی ہوا بھی جارہا ہوں خدا نے بھی آپ کے اس توکل کو غیر معمولی قبولیت سے نوازا۔چنانچہ رستہ میں ہی غیبی طریق پر سارے انتظامات بلا روک ٹوک ہوتے چلے گئے اور آپ اپنے امام کی خدمت میں بلا توقف حاضر ہو گئے۔یہ وہی حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں جن کی نیکی اور تقویٰ اور علم اور فراست اور محبت اور عقیدت اور قربانی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک شعر میں فرمایا ہے کہ چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے یعنی کیا ہی اچھا ہو کہ امت کا ہر فرد نور دین بن جائے اور یقیناً ایسا ہی ہوا اگر ہر مسلماں کا دل یقین کے نور سے بھر جائے“