سیرت طیبہ — Page 286
۲۸۶ مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے بہت تھوڑ اسا پلاؤ پکا یا جوصرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ہی کافی ہوسکتا تھا مگر اس دن نواب محمد علی خان صاحب جو ہمارے ساتھ والے مکان میں رہتے تھے وہ اور ان کی بیوی اور بچے وغیرہ سب ہمارے گھر آگئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ ان کو بھی کھانا کھلاؤ۔میں نے حضرت مسیح موعود سے کہا کہ چاول تو بالکل ہی تھوڑے ہیں کیونکہ میں نے یہ چاول صرف آپ کے لئے ہی تیار کروائے تھے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے چاولوں کے پاس آکر ان پر دم کیا اور مجھ سے فرمایا 66 اب تم خدا کا نام لے کر ان چاولوں کو تقسیم کردو۔" حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ ان چاولوں میں ایسی فوق العادت برکت پیدا ہوئی کہ نواب صاحب کے سارے گھر والوں نے یہ چاول کھائے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب کے گھروں میں بھی چاول بھجوائے گئے اور ان کے علاوہ کئی دوسرے لوگوں کو بھی دیئے گئے اور چونکہ وہ ” برکت والے چاول مشہور ہو گئے تھے اس لئے بہت سے لوگوں نے ہم سے آ آکر چاول مانگے اور ہم نے سب کو دیئے اور خدا کے فضل سے وہ سب کے لئے کافی ہو گئے۔ย سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱۳۴، ۱۳۵ روایت نمبر ۱۴۴) حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ اس قسم کے اور بھی بہت سے واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں گزرے ہیں کہ خدا نے حضور کے دم کی