سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 287 of 315

سیرت طیبہ — Page 287

۲۸۷ برکت سے عین وقت پر جبکہ کوئی انتظام نظر نہیں آتا تھا تھوڑے سے کھانے کو زیادہ کر دیا۔دراصل چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تاکید فرماتے تھے کہ جو مہمان بھی آئے وہ کھانے سے محروم نہ رہے اور اکثر مہمان اچانک آجاتے تھے اور قادیان اُن دنوں میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہوتا تھا جس میں کھانے کی چیزیں نہیں ملتی تھیں اس لئے بہر حال جس طرح بھی میسر ہوتا تھا سب کے لئے وقت بے وقت کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا اور خدا کے فضل سے وہ کافی ہو جاتا تھا۔دنیا کے لوگ جو اپنے مادی قانون کے تصورات اور مادی مشاہدات۔گھرے ہوئے ہیں وہ شاید ان باتوں کو نہ سمجھ سکیں کیونکہ وہ روحانی آنکھوں سے محروم ہیں مگر جن لوگوں نے خدا کو دیکھا اور پہچانا ہے اور اس کی وسیع قدرتوں کا مشاہدہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ حقیقتا خداہی دنیا کا واحد خالق و مالک ہے اور خدا ہی ہے جس نے اپنی از لی حکمت کے ماتحت دنیا میں خیر وشر کی تقدیر جاری کر رکھی ہے اور وہی ہے جس نے زمین و آسمان کی چیزوں میں مختلف خواص ودیعت کئے ہیں۔اور پھر خدا اپنے بنائے ہوئے قانون کا غلام نہیں بلکہ جیسا کہ وہ قرآن میں خود فرماتا ہے وہ خاص حالات میں خاص ضروریات کے ماتحت اپنے قانون کو وقتی طور پر بدل بھی سکتا ہے۔اس لئے ایسے لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ خدا کی طاقتیں اتنی وسیع اور اتنی عجیب و غریب ہیں کہ جن کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ لوگ اپنے مادی ماحول سے آگے نکل کر اپنی روحانیت کی آنکھیں کھولیں اور پھر وہ تماشہ دیکھیں جو ہزاروں نبیوں اور ہزاروں ولیوں کے زمانہ میں دنیا دیکھتی چلی آئی