سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 285 of 315

سیرت طیبہ — Page 285

۲۸۵ اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی۔اس پر حضرت مسیح موعود نے حضرت بیوی جی کو اندر کہلا بھیجا کہ اور مہمان آگئے ہیں کھانا زیادہ بھجواؤ “ اس پیغام کے جانے پر حضرت اماں جان نے گھبرا کر حضرت مسیح موعودگواندر بلوایا اور کہا کہ کھانا تو بہت تھوڑا ہے اور صرف اُن چند مہمانوں کے مطابق پکایا گیا تھا جن کے متعلق آپ نے فرمایا تھا۔اب کیا کیا جائے ؟ حضرت مسیح موعود نے بڑے اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ د گھبراؤ نہیں اور کھانے کا برتن میرے پاس لے آؤ۔“ پھر حضرت مسیح موعود نے اس برتن پر ایک رومال ڈھانک دیا اور رومال کے نیچے سے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں چاولوں کے اندر داخل کر دیں اور پھر یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لے گئے کہ اب تم کھانا نکالو خدا برکت دے گا۔“ میاں عبداللہ صاحب روایت کرتے ہیں کہ یہ کھانا سب نے کھایا اور سب سیر ہو گئے اور کچھ بچے بھی گیا۔(سیرت المہدی حصہ اول روایت ۱۴۴ صفحه ۱۳۴) (19) میں نے جب میاں عبداللہ صاحب کی یہ دلچسپ روایت حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کے پاس بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ ایسے واقعات حضرت مسیح موعود کی برکت سے ہمارے گھر میں بارہا ہوئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک لطیف واقعہ