سیرت طیبہ — Page 283
۲۸۳ اور خدائی نصرت کی زبردست دلیل بن جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی میں ایسے بہت سے معجزات کی مثال ملتی ہے کہ جب آپ نے اپنی قوتِ قدسیہ اور خدادا دروحانی طاقت کے ذریعہ غیر معمولی معجزات کا عالم پیدا کر دیا۔مثلاً بعض اوقات جبکہ کوئی فوری علاج میسر نہیں تھا آپ نے ایک عزیز صحابی کی بیمار آنکھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہ خدا کے فضل سے کسی قسم کے ظاہری علاج کے بغیر اچھی ہوگئی۔( بخاری حالات غزوہ خیبر ) یا آپ نے کسی اشد ضرورت کے وقت تھوڑے سے پانی کے برتن میں اپنی انگلیاں ڈالیں اور وہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے جوش مار کر بہنے لگا اور صحابہ کی ایک بڑی تعداد اس سے سیراب ہو گئی۔(بخاری باب شرب البركة و الماء المبارك) یا غذا کی قلت کے وقت میں آپ کی برکت سے تھوڑا سا کھانا کثیر التعداد صحابہ کے لئے کافی ہو گیا اور سب نے اس کھانے سے سیری حاصل کی۔(بخاری باب غزوہ خندق) یہ سب اقتداری معجزات کی روشن مثالیں ہیں جو خدائے عرش نے اپنے محبوب رسول کی خاطر اس کے ہاتھ پر ظاہر فرمائیں۔اسی قسم کے اقتداری معجزات خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں بھی کافی تعداد میں ملتے ہیں۔مثلاً آپ نے کسی بے چین بیمار پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہ محض آپ کے ہاتھ کے چھونے سے شفایاب ہو گیا۔یا آپ نے کسی فوری ضرورت کے وقت تھوڑے سے کھانے میں اپنی انگلیاں ڈالیں اور وہ کثیر التعدادلوگوں کے لئے کافی ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔بے شک جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے معجزات کا منبع صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور کسی نبی یا رسول کو از خود یہ طاقت