سیرت طیبہ — Page 268
۲۶۸ دنیا کے کسی انسان کو کسی زمانہ میں حاصل ہوئی ہیں۔“ دم کے طریقہ علاج کے متعلق یہ بات بھی ذکر کرنی ضروری ہے اور دوستوں کو یا درکھنی چاہیئے کہ گو یہ طریقہ علاج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گاہے گاہے کے عمل سے ثابت ہے مگر اسے کثرت کے ساتھ اختیار کرنا اور گویا منتر جنتر بنالینا ہرگز درست نہیں۔کیونکہ بے احتیاطی کے نتیجہ میں اس سے بہت سی بدعتوں کا رستہ کھل سکتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا ہے دعا کا معروف طریق اختیار کیا جائے اور اگر کسی وقت دم کے طریقہ علاج کی ضرورت سمجھی جائے یا اس کی طرف زیادہ رغبت پیدا ہو تو ضروری ہے کہ کسی نیک اور متقی اور روحانی بزرگ سے دم کرایا جائے ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے اندیشہ ہوسکتا ہے کہ برکت کی بجائے بے برکتی کا دروازہ کھل جائے۔(۱۳) ابھی ابھی حضرت مسیح موعود کی دعا سے ایک بد حال مریضہ کے شفاء پانے کا ذکر کیا گیا ہے۔حضور کی زندگی میں ایسی معجزانہ شفایابی کی مثالیں ایک دو نہیں دس ہیں نہیں بلکہ حقیقتہ بے شمار ہیں جن میں سے بعض حضور نے مثال کے طور پر اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں بیان فرمائی ہیں اور بعض لوگوں کے سینوں اور تحریری دستاویزات میں محفوظ ہیں۔ان میں سے اس جگہ میں صرف ایک بات نمونہ کے طور پر بیان کرتا ہوں۔