سیرت طیبہ — Page 214
۲۱۴ تقریر روحانی تاثیر میں اس طرح ڈوبی ہوئی تھی کہ وہ آریہ بے تاب ہو کر حضور کے سامنے سجدے میں گر گیا۔حضور نے اپنے ہاتھ سے اسے اٹھایا اور سجدہ کرنے سے منع کیا۔اس کے بعد یہ آریہ حضرت مسیح موعود کو دونوں ہاتھوں سے ہندوانہ طریق پر بڑے ادب کے ساتھ سلام کرتے ہوئے حضور کی طرف پیٹھ پھیرنے کے بغیر پچھلے پاؤں پیچھے ہٹتے ہوئے باہر چلا گیا۔اصحاب احمد جلد ۴ ص ۹۴ یہ عجیب و غریب روایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غیر معمولی علمی رعب اور آپ کی خدا داد روحانی تاثیر کی بڑی دلچسپ مثال ہے۔ڈاکٹر صادق علی صاحب گو احمدی نہیں تھے مگر کپورتھلہ کے رئیس تھے اور علماء کے زمرہ میں شمار ہوتے تھے مگر جہاں وہ اس آریہ کا جواب سن کر ساکت ہو گئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند منٹ کی تقریر نے اس آریہ پر ایسا جادو کا اثر کیا کہ وہ حضور کے سامنے بے تاب ہوکر سجدے میں گر گیا۔حالانکہ منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضور کی تقریر بحیثیت مجموعی انہی دلائل پر مبنی تھی جو ڈاکٹر صادق علی صاحب نے بیان کئے تھے مگر جہاں ڈاکٹر صادق علی صاحب کے الفاظ بے روح اور بے جان تھے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہر ہر لفظ اس روحانی جذب و اثر سے معمور تھا جو خدا کے ماموروں اور مرسلوں کو خاص طور پر عطا کیا جاتا ہے۔بیشک بے باکی سے انکار کرنے والے اور خدا کے رسولوں کے سامنے گستاخانہ طریق پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کرنے والے بھی ہر زمانے میں ہوتے چلے آئے ہیں اور ہمارے آقا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ابوجہل اور امیہ اور عقبہ اور شیبہ وغیرہ جیسے بدباطنوں کی مثالیں پائی جاتی