سیرت طیبہ — Page 198
۱۹۸ مگر اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ خدا ساری قوموں کا خدا ہے اور اس کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کو بدل بدل کر تقسیم کرتا ہے پس اگر اس زمانہ میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں اور خوشہ چینوں میں سے ایک ہندی خادم کو اصلاح خلق کے لئے چنا ہے تو اس پر عربوں کو برا ماننے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ وسیع اسلامی اخوت کے مطابق یہ نعمت بھی دراصل انہی کے ایک بھائی کے حصہ میں ہی آئی ہے۔پس میں اپنے عرب بھائیوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ اسلام کی پہلی بارش سے سیراب ہوئے۔اب آؤ اور اسلام کی آخری بارش سے بھی حصہ پاؤ اور انشاء اللہ ضرور ایسا ہوگا کیونکہ خدا نے پہلے سے اپنے مسیح کو یہ خوشخبری دے رکھی ہے کہ يُصَلُّونَ عَلَيْكَ صَلَحَاءِ الْعَرَبِ وَأَبْدَالُ الظَّامِ " ( تذکرہ ایڈیشن دوم ص ۱۶۸) یعنی اے خدا کے مسیح وہ وقت آتا ہے کہ عرب کے نیک لوگ اور شام کے اولیاء تیری صداقت کو پہچان کر تجھ پر درود بھیجیں گے۔“ (۱۳) اس موقعہ پر یہ بات بھی خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے کہ چونکہ یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور قرآنی پیشگوئی کے مطابق اس زمانہ میں زمین اپنے اشکال یعنی تمام وزنی باتیں باہر نکال نکال کر منظر عام پر لا رہی ہے (سورہ زلزال آیت (۳) اس لئے خدا تعالیٰ نے اس زمانے کے موعود کے لئے بھی یہی پسند فرمایا ہے کہ اسے زیادہ تر علمی معجزات سے