سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 190 of 315

سیرت طیبہ — Page 190

۱۹۰ ادھر گھوم رہا تھا اور اس بات کی تڑپ رکھتا تھا کہ اسے سچے رستے کا نشان مل جائے۔اسی جستجو میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام سن کر قادیان آیا اور بہت جلد قادیان کی مجالس کا ایک بے تکلف ممبر نظر آنے لگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی باتیں سن کر اور خواہش معلوم کر کے فرمایا کہ ہماری تو بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ مذاہب کے اختلاف کا فیصلہ کر کے دنیا کو سچے خدا کا رستہ دکھا ئیں۔سواگر آپ لاہور جیسے مقام میں کسی ایسے جلسہ کا انتظام کر اسکیں جس میں سارے مذہبوں کے نمائندے شامل ہو کر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں اور مخلوق خدا کو خدا کا رستہ دکھانے میں مدد دیں تو یہ ایک بہت بڑی نیکی اور خدمت کا کام ہوگا اور دنیا کو اپنے بچے آقا و مالک کا نشان پانے میں مدد ملے گی۔اس پر سوامی شوگن چند رلاہور جا جا کر مختلف مذہبوں کے زعماء سے ملتے رہے اور حضرت مسیح موعود کی توجہ اور دعا کی برکت سے بالآخر ایک بین الاقوامی جلسے کی تجویز پختہ ہوگئی جس میں دین و مذہب کے اصولوں اور خدا کی ہستی اور خدا کی صفات کے متعلق پانچ ایسے بنیادی سوال مقرر کئے گئے جو ہر مذہب کی جان اور ہر دینی نظر یہ فکر کا نچوڑ ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ان سوالوں کے جواب میں ایک مفصل مضمون لکھا اور جلسہ سے کئی دن پہلے ایک اشتہار شائع کیا اور اس اشتہار میں بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ ا۔میرا یہ مضمون سب پر غالب رہے گا۔۲۔یہ مضمون خدا تعالیٰ کی کبریائی کا موجب ہوگا اور اس کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب خیبر کے یہودی قلعوں کی طرح مفتوح ہوں گے اور ان کے جھنڈے