سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 13 of 315

سیرت طیبہ — Page 13

۱۳ اللَّهُمَّ الرّفِيقَ الْأَعْلَى اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى (صحیح بخاری کتاب الدعوات باب دعاء النبی صلی الله علیه وسلم) یعنی خدایا ! اب میں تیرے قدموں میں حاضر ہو رہا ہوں اور تیری قریب ترین معیت کا آرزومند ہوں“۔(^) خدا نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس محبت کو ایسی قدر شناسی سے نوازا کہ جو اسی کی بے پایاں رحمت کا حق اور اسی کی بے نظیر قدرشناسی کے شایان شان ہے چنانچہ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اَنْتَ مِلَّى مَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي وَ تَفْرِيدِي - اَنْتَ مِنِى مَنْزِلَةِ وَلَدِي إِنِّي مَعَكَ يَا ابْنَ رَسُولَ اللَّهِ - ( تذکرۃ صفحہ ۵۳، ۴۹۰،۴۴۲ مطبوعه ۲۰۰۴ء) د یعنی چونکہ اس زمانہ میں تو میری توحید کا علمبر دار ہے اور توحید کے کھوئے ہوئے متاع کو دنیا میں دوبارہ قائم کر رہا ہے اس لئے اے مسیح محمدی! تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے کہ میری توحید اور تفرید۔اور چونکہ عیسائیوں نے جھوٹ اور افتراء کے طور پر اپنے مسیح کو خدا کا اصلی بیٹا بنا رکھا ہے اس لئے میری غیرت نے تقاضا کیا کہ میں تیرے ساتھ ایسا پیار کروں کہ جو اولاد کا حق ہوتا ہے تا کہ دنیا پر ظاہر ہو کہ محمد رسول اللہ کے شاگرد تک اطفال اللہ کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں اور چونکہ تو میرے محبوب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین