سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 315

سیرت طیبہ — Page 135

۱۳۵ میں سے اسی طرح کا علم ہے جس طرح کہ طب یا ہیئت یا ہندسہ یا کیمسٹری یا فرکس وغیرہ دنیا کے علوم ہیں اور ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب وملت سے تعلق رکھتا ہوا سے حاصل کر سکتا اور اپنی فطری استعداد کے مطابق مناسب مشق کے ذریعہ اس میں کافی مہارت پیدا کر سکتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں میں کئی صوفیاء اور ہندوؤں میں سے کئی جوگی اس علم کے ماہر گذرے ہیں اور اس علم کے ذریعہ بیماروں کا علاج بھی کرتے رہے ہیں اور یہی اس علم کا بہترین استعمال ہے۔اور آج کل یورپ و امریکہ کے لوگ بھی اس علم میں کافی ترقی کر رہے ہیں۔اور قدیم زمانہ میں جو ساحر حضرت موسیٰ کے مقابل پر آئے تھے وہ بھی غالبا اسی علم کے ماہر تھے مگر عصائے موسوی کے سامنے ان کا سحر ٹوٹ کر پاش پاش ہو گیا۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے۔إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ الشحِرُ حَيْثُ آتی (طه:۷۰) یعنی ان لوگوں نے ایک ساحرانہ چال چلی تھی۔مگر خدا کے رسولوں کے مقابلہ پر کوئی ساحر کامیاب نہیں ہوسکتا خواہ وہ کسی رستہ سے آئے۔(۲۴) اسی تعلق میں مجھے ایک اور روایت بھی یاد آئی ہے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے مجھے سے بیان کیا کہ جب ابتداء میں حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لدھیانہ میں ملے تو چونکہ حضرت منشی صاحب علم توجہ کے بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے اور اس علم کے ذریعہ مریضوں کا علاج بھی کیا کرتے