سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 134 of 315

سیرت طیبہ — Page 134

۱۳۴ سورة شعراء زیر آیت ۳۴ میں بھی بیان ہوئی ہے ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرمایا کرتے ہیں کہ اس کے بعد وہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بہت معتقد ہو گیا اور جب تک زندہ رہا ہمیشہ بڑی عقیدت کے رنگ میں حضور کے ساتھ خط کتابت رکھتا رہا۔اور وہ بیان کیا کرتا تھا کہ مرزا صاحب بڑے خدا رسیدہ بزرگ ہیں جن کے سامنے میری پینوٹزم کی طاقت بالکل بیکار ثابت ہوئی۔اس روایت کے تعلق میں ہمارے دوستوں کو یا درکھنا چاہیے کہ علم توجہ یعنی ہینوٹزم دنیا کے علموں میں سے ایک لطیف علم ہے جس کا بنیادی ملکہ انسانی فطرت کے اندر قدرتی طور پر پایا جاتا ہے مگر یہ ملکہ عموم مخفی اور مستور رہتا ہے البتہ اسے مناسب مشق کے ذریعہ بیدار کیا جاسکتا اور بڑھایا جا سکتا ہے۔اور بعض لوگ جن کی قوت ارادی زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور ان کے اندر توجہ جمانے یعنی کنسٹریشن (Concentration) کا مادہ زیادہ پختہ ہوتا ہے وہ لمبی مشق کے ذریعہ اس ملکہ میں کافی ترقی کر لیتے ہیں لیکن بعض مثالیں ایسی بھی دیکھی گئی ہیں کہ بعض لوگوں میں بلکہ شاذ کے طور پر بعض نو عمر بچوں تک میں یہ ملکہ قدرتی طور پر بھی بیدار ہوتا ہے اور وہ کسی قسم کی مشق کے بغیر ہی غیر شعوری رنگ میں توجہ جمانے اور اس کے اثرات پیدا کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں مگر ایسی قدرتی حالت اگر اسے مشق کے ذریعہ قائم نہ رکھا جائے بالعموم جلد زائل ہو جاتی ہے بلکہ یہ فطری ملکہ بعض جانوروں تک میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ سانپوں کی بعض اقسام اپنی آنکھوں کی توجہ کے ذریعے اپنے شکار کو مسحور کر لیا کرتی ہیں۔اس تعلق میں یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ علم تو جہ یعنی پنوٹزم کوحقیقی روحانیت سے جو خدا تعالیٰ کے ذاتی تعلق کا دوسرا نام ہے کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ علم دنیا کے علموں