سیرت طیبہ — Page 133
۱۳۳ مرزا صاحب سے بھی ملتے چلیں۔اس کا منشاء یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے حضرت مسیح موعود پر توجہ کا اثر ڈال کر حضور سے بھری مجلس میں کوئی نازیبا حرکت کرائے جس سے لوگوں پر حضور کا روحانی اور اخلاقی اثر زائل ہو جائے۔جب وہ مجلس میں حضور سے ملا تو اس نے حضور کے سامنے بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ حضور پر اپنی توجہ کا اثر ڈالنا شروع کیا مگر حضرت مسیح موعود پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔تھوڑی دیر کے بعد اس شخص کے بدن پر کچھ لرزہ آیا اور اس کے منہ سے کچھ خوف کی آواز بھی نکلی لیکن وہ سنبھل گیا اور پھر زیادہ زور کے ساتھ تو جہ ڈالنی شروع کی۔اس پر اس نے ایک چیخ ماری اور بے تحاشا مسجد سے بھاگتا ہوا نیچے اتر گیا۔اس کے ساتھی اور بعض دوسرے لوگ بھی اس کے پیچھے گئے اور اس کو پکڑ کر سنبھالا۔جب اس کے ہوش ٹھکانے ہوئے تو بعد میں اس نے بیان کیا کہ میں علم تو جہ کا بڑا ماہر ہوں میں نے ارادہ کیا تھا کہ مرزا صاحب پر توجہ ڈال کر ان سے مجلس میں کوئی نازیبا حرکت کراؤں مگر جب میں نے ان پر توجہ ڈالی تو میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک شیر کھڑا ہے۔میں اسے اپنا وہم قرار دے کر سنبھل گیا اور پھر دوبارہ توجہ ڈالنی شروع کی۔اس پر میں نے دیکھا کہ وہ شیر میری طرف بڑھ رہا ہے جس سے میرا بدن لرز گیا مگر میں نے پھر اپنے آپ کو سنبھالا اور اپنی ساری طاقت اور ساری توجہ مجتمع کر کے اور اپنا سارا زور لگا کر مرزا صاحب پر توجہ ڈالی اس وقت میں نے دیکھا کہ وہ شیر خوفناک صورت میں مجھ پر اس طرح حملہ آور ہوا ہے کہ گویا مجھے ختم کرنا چاہتا ہے جس پر میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی اور میں مسجد سے بھاگ اٹھا۔(سیرۃ المہدی روایت ۷۵۔یہی روایت بعد میں کسی قدر اختلاف کے ساتھ تفسیر کبیر