سیرت طیبہ — Page 117
۱۱۷ اس جگہ یا درکھنا چاہیے کہ معجزہ کے یہ معنی نہیں کہ کسی زمانہ اور کسی قسم کے حالات میں بھی کوئی انسان اس جیسا کام نہ کر سکے یا اس جیسی چیز نہ لا سکے۔بلکہ اگر ایک مخصوص زمانہ میں کوئی چیز ناممکن سمجھی جاتی ہے اور اس زمانہ کا کوئی انسان اس پر قادر نہیں اور وہ اس وقت تک کے حالات کے ماتحت بشری طاقت سے بالا خیال کی جاتی ہے تو اگر ایسی بات کوئی مامور من اللہ اپنی دعا اور روحانی توجہ کے ذریعہ کر گذرے تو وہ یقینا معجزہ سمجھی جائے گی خواہ بعد کے کسی زمانہ میں وہ چیز دنیا کے لئے ممکن ہی ہو جائے مثلا بیماریوں کے علاج کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءُ إِلَّا الْمَوْتِ ( منداحمد) د یعنی خواہ لوگوں کو معلوم ہو یا نہ ہو خدا نے ہر بیماری کے لئے نیچر میں کوئی نہ کوئی علاج مقرر کر رکھا ہے۔ہاں جب کسی کی موت کا مقدر وقت آ جائے تو وہ اٹل ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔“ پس اگر آئندہ چل کر مرض ہائیڈ روفوبیا کا کوئی علاج دریافت ہو جائے تو پھر بھی حضرت مسیح موعود کے اس معجزہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے واقعی ایک معجزہ تھا جس کا جواب لانے کے لئے اس وقت کی دنیا عاجز تھی۔اس کے مقابل پر بعض منجزات ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر زمانے میں دنیا کو عاجز کر دینے کی صفت میں لاجواب رہتے ہیں مثلا قرآن مجید کے ظاہری اور معنوی کمالات کا معجزہ۔اقتداری پیشگوئیوں کا معجزہ۔بالمقابل دعا کی قبولیت کا معجزہ۔ہر حال میں رسولوں کے غلبہ کا معجزہ وغیرہ وغیرہ۔اور حضرت مسیح موعود کو خدا نے یہ دونوں قسم کے معجزے عطا فرمائے۔