سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 315

سیرت طیبہ — Page 107

لئے حضرت مسیح موعود کو عیسائیت کے خلاف بڑا جوش تھا اور ویسے بھی آپ کے منصب مسیحیت کا بڑا کام حدیثوں میں کسر صلیب ہی بیان ہوا ہے اس لئے آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر بہت زیادہ زور دیتے تھے کیونکہ صرف اس ایک بات کے ثابت ہونے سے ہی عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے یعنی وفات مسیح کے نتیجہ میں نہ تو الوہیت مسیح باقی رہتی ہے اور نہ تثلیث کا نام ونشان قائم رہتا ہے اور نہ کفارہ کا مسئلہ اپنی بودی ٹانگوں پر کھڑارہ سکتا ہے۔بے شک وفات مسیح ناصری کا عقیدہ طبعا حضرت مسیح موعود کی اپنی صداقت کے ثبوت کے لئے بھی ایک پہلا زینہ ہے مگر اس مسئلہ کی اصل اہمیت جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود اس پر زیادہ زور دیتے تھے وہ موجودہ مسیحیت کے کھنڈن سے تعلق رکھتی ہے چنانچہ اکثر فرما یا کرتے تھے کہ " تم مسیح کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے 66 (احکام اگست ۱۹۰۸ء) کاش ہمارے دوسرے مسلمان بھائی اس نکتہ کو سمجھ کر کم از کم مسیحیت کے مقابلہ میں تو ہمارے ہمنوا ہو جا ئیں۔حضرت مسیح موعود کے دعوے کو ماننا یا نہ ماننا دوسری بات ہے۔مسیحیت کے باطل عقائد اور اس زمانہ میں ان عقائد کے عالمگیر انتشار کا حضرت مسیح موعود کے دل پر اتنا بوجھ تھا کہ آپ ایک جگہ در دو کرب سے بے قرار ہو کر بڑے جلال سے فرماتے ہیں کہ میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا ہے اور میری جان عجیب