سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 106 of 315

سیرت طیبہ — Page 106

1+4 ہر دفعہ یہی فرمایا کہ جس چیز کو میں نے حق سمجھ کر خدا کی خاطر قبول کیا ہے اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔تو پھر ان کو ایک میدان میں کمر تک زمین میں گاڑ کر ان پر پتھروں کی بے پناہ بارش برسائی۔حتی کہ اس عاشق الہی کی روح اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہوگئی اور انسان پر انسان کے ظلم اور مذہب میں بدترین تشدد کا یہ خونیں ڈرامہ ختم ہوا۔جب حضرت مسیح موعود کو صاحبزادہ صاحب کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے بڑے درد کے ساتھ لکھا کہ: ”اے عبد اللطیف! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھا یا۔اور جولوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔۔۔اے کابل کی زمین ! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔۔۔۔تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔“ ( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۷۴،۶۰) (11) چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی بھاری غرض و غایت اسلام کی خدمت اور توحید کا قیام تھی اور اس زمانہ میں حقیقی توحید کا سب سے زیادہ مقابلہ مسیحیت کے ساتھ ہے جو توحید کی آڑ میں خطرناک شرک کی تعلیم دیتی اور حضرت مسیح ناصری کو نعوذ باللہ خدا کا بیٹا قرار دے کر حضرت احدیت کے پہلو میں بیٹھاتی ہے اس