سیرت طیبہ — Page 95
۹۵ الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا آدَبٌ د یعنی دین اور خوش اخلاقی کا سارا راستہ ادب کے میدان میں سے گذرتا ہے۔“ (4) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صبر و استقلال بھی بے مثال نوعیت کا تھا۔آپ کو اپنے خدا داد مشن کی انجام دہی کے لئے جن غیر معمولی مشکلات میں سے گذرنا پڑا اور جن خار دار جنگلوں اور جن پر خطر وادیوں اور جن فلک بوس پہاڑوں کو طے کرنا پڑا وہ آپ کی زندگی کے ہر لمحہ میں ظاہر و عیاں ہیں۔آپ کی طرف سے ماموریت کا دعویٰ ہوتے ہی مخالفت کا ایسا طوفان اٹھا کہ الحفیظ الامان ! یوں نظر آتا تھا کہ ایک چھوٹی سی کشتی میں ایک کمزور سا انسان اکیلا بیٹھا ہوا اسے گویا ایک تنکے کے ساتھ چلا رہا ہے اور طوفان کا زور اسے یوں اٹھاتا اور گراتا ہے کہ جس طرح ایک تیز آندھی کے سامنے ایک کاغذ کا پرزہ ادھر ادھر اڑتا پھرتا ہے مگر یہ شخص ہراساں نہیں ہوتا بلکہ خدا کی حمد کے گیت گاتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ہے اور اس کا دل اس یقین سے معمور ہے کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے اور وہی میری حفاظت کرے گا۔یہ صبر و استقلال تھا جس پر آپ کے اشد ترین مخالف تک پکار اٹھے کہ مرزا صاحب صادق ہوں یا غیر صادق مگر اس میں کلام نہیں کہ وہ جس مشن کو لے کر اٹھے تھے اس پر اپنی زندگی کے آخری دم تک مضبوط چٹان کی طرح قائم رہے، چنانچہ آپ کی وفات پر ایک آریہ رسالہ کے