سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 88 of 315

سیرت طیبہ — Page 88

ہیں: ۸۸ میں تیار ہوں اور نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ گورنمنٹ کی عدالت میں اقرار کر سکتا ہوں کہ جب میں (اس طرح کے خالصہ ) آسمانی فیصلہ سے مجرم ٹھہر جاؤں تو مجھے پھانسی دی جائے میں خوب جانتا ہوں کہ خدا نے میری پیشگوئی پوری کر کے دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ کیا ہے پس ہر گز ممکن نہیں ہوگا کہ میں پھانسی ملوں۔" (اشتہار ۵ را پریل ۱۸۹۷ء) دوسری جگہ اپنے الہامات کے متعلق یقین کامل کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔وہ کلام جو میرے پر ( خدا کی طرف سے) نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے۔اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب ہے اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر “ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲) دوست غور کریں کہ یہ کس درجہ کا ایمان اور کیسا پختہ اور کیسا کامل یقین ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کفر و ایمان کی بازی لگاتے ہوئے پھانسی کے تختہ پر چڑھنے کے لئے تیار تھے۔لاریب ایسا ایمان صرف اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے جو