سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 89 of 315

سیرت طیبہ — Page 89

۸۹ اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہو اور اپنے کانوں سے اس کا کلام سنتا ہو۔کوئی شخص اپنی سمجھ کی کمی یا اپنے تدبر کی کوتاہی یا اپنے تعصب کی فراوانی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماموریت کے دعویٰ میں شک کر سکتا ہے مگر کوئی ہوش وحواس رکھنے والا انسان اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ آپ کو اپنے خدا دادمشن کے متعلق کامل یقین تھا۔ایک جلد باز انسان آپ کو دھوکا خوردہ خیال کر سکتا ہے جیسا کہ بعض بظاہر غیر متعصب مغربی مصنفین نے اپنی کوتاہ بینی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خیال کیا ہے مگر کوئی شخص جس میں ابھی تک نو ضمیر کی تھوڑی سی روشنی بھی باقی ہے آپ کو دھوکا دینے والا قرار نہیں دے سکتا۔(٣) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے مثال محبت بلکہ عشق کا ذکر میری گذشتہ سال کی تقریر موسومہ سیرۃ طیبہ میں گذر چکا ہے۔یہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے عشق کا تتمہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کو تمام دوسرے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ بھی غیر معمولی محبت تھی اور آپ اپنے عظیم الشان مقام کے باوجود ان سب کا بے حد ادب کرتے تھے۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں :۔ماہمہ پیغمبران را چاکریم ہمچو خاکے اوفتاده برورے ہر رسولے کو طریق حق نمود جان ما قرباں بر آں حق پرورے ( براہین احمدیہ حصہ اول روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۳)